انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فرقہ اہلِ حدیث اور دوسر باطل فرقے اپنی تعلیمات اپنے سننے والوں میں بیان کرنے کی بجائے دوسروں پر اکثر غیر مناسب انداز میں اعتراض کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اہلِ حق علماء کو گمراہ اور کافر کہنے تک سے گریز نہیں کرتے ، جس سے فتنہ برپا ہوتا ہے
ان لوگوں کے اس فتنے کو بند باندھنے کیلئے بادل ناخواستہ قلم اٹھانا پڑتا ہے ورنہ ملکی اور عالمی حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی صلاحتیں کہیں اور صرف ہوں